جکارتہ (نیوز ڈیسک) ہوائی جہاز کے مسافروں کی سلامتی کی بھاری ذمہ داری پائلٹ کے کندھوں پر ہوتی ہے لیکن اگر پائلٹ خود اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے قابل نہ ہو تو جہاز کیسے اڑائے گا اور بیچارے مسافروں کا انجام کیا ہو گا، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ گزشتہ روز انڈونیشیا کے سربایا شہر کے ائرپورٹ پر ٹیک آف کے لئے تیار کھڑے جہاز کے مسافروں کو بھی یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی، کیونکہ پائلٹ نشے میں دھت تھا، اتنا دھت کہ ٹھیک طور پر بولنے کے قابل بھی نہ تھا۔
اخبار دی گارڈین کی رپور ٹ کے مطابق مسافروں کے سامنے یہ خوفناک انکشاف اس وقت ہوا جب انہیں کاک پٹ سے ایسی آوازیں سنائی دیں گویا کوئی شخص غنودگی کے عالم میں بول رہا ہو۔ مسافر یہ جان کر دم بخود رہ گئے کہ یہ طیارے کا کپتان تھا، جو مسافروں کو سفر سے متعلق ہدایات دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن نشے کی زیادتی کے باعث اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور اوٹ پٹانگ باتیں سن کر مسافروں کے پاﺅں تلے سے زمین نکل چکی تھی۔ خوفزدہ مسافر اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوگئے اور عملے سے کہا کہ وہ فوری طور پر انہیں طیارے سے باہر نکالا جائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا جہاز خالی ہو چکا تھا۔

بعدازاں کپتان کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ سکیورٹی اہلکاروں کی طرف بڑھتے ہوئے بری طرح لڑکھڑارہا تھا۔ توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں وہ ناکام ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی اشیاءبھی نیچے گرجاتی ہیں، جو ایک سکیورٹی اہلکار اٹھا کر اسے دیتا ہے۔