اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جولائی میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے ڈاکٹر مشرف رسول سیال کوپی آئی اے کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کیا تھا جو کہ قومی اداے کیلئے ایک امید کی نئی کرن ہیں  ،معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے مشرف رسول نے اپنے 27سالہ کیرئیر میں سول سروسز کے نمایا ں شعبوں کے علاوہ امریکہ کی ایمبری رڈل یونیورسٹی میں ایوی ایشن مینجمنٹ کے حوالے سے تربیت لے رکھی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر مشرف رسول سیال کو جولائی میں پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹو ا?فیسر تعینات کر دیا گیا تھا ،بہت سے لوگوں کو ان کی قابلیت کا علم نہیں ہے اور ان کی ملک کیلئے خدمات سے واقف نہیں ہیں۔ڈاکٹر مشرف نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ،27سالہ پیشہ وارنہ کیرئیر میں انہوں نے 15سال ملک کے اندر جب کہ 12سال ملک سے باہر اپنی خدمات سر انجام دی ،جس میں انہوں نے عوامی شعبے میں اصلاحات اورمعاشی ترقی کے مختلف پروگرامز میں کام کیا ہو اہے۔
ڈاکٹر مشرف رسول سیال 1990 میں سول سروس کے امتحان میں پورے ملک میں پہلی پوزیشن پر رہے ،اس کے علاوہ انہوں نے مینجمنٹ اور لیڈرشپ رول میں گولڈ میڈل بھی حاصل کر رکھا ہے،ڈاکٹریٹ کی ڈگری میں انہوں نے ٹیکس ،عوامی پروگرامز کے اندر انوسٹیمنےٹ،اور ریسرچ کے مختلف طریقوں کو بہت باریک بینی سے پرکھا ہوا ہے۔دوران تعلیم انہوں نے مسابقتی ہوا بازی میں ہونے والی جد ت کے حوالے سے بھی شمالی امریکہ میں کام کیا ۔اس کے علاوہ انہوں نے ایمبری رڈل یونیورسٹی میں ایوی ایشن مینجمنٹ کے حوالے سے تربیت لے رکھی ہے۔
پی ایچ ڈی کے بعد انہوں نے انہوں نے انڈریو ینگ سکول آف پالیسی سٹیڈیز میں پبلک فنانس کے شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے اس کو دنیا کے پانچویں بہترین ادارے میں شامل کر وایا۔پی آئی اے اس وقت مسابقتی ہوابازی میں شمار ہے ،جس کا مقابلہ اس وقت دنیاکی بہترین ایو ی ایشن کمپنیز سے ہے ،اس وقت ادارے کو ایسے ہی ایک لیڈر کی ضرورت ہے جو اسے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے دوسرو ںکے سامنے لاکھڑا کر دے۔ڈاکٹر مشرف رسول اپنے دور ملازمت میں ایک بہترین لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں ،جہنوں نے سول سروسز کے شعبے میںبہترین خدمات سر انجام دی ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے عوامی شعبے کی اصلاحات اور ڈیزائن کے حوالے سے 2002سے لے کر 2005تک ایشین بنک کی طرف سے فنڈڈ300ملین امریکی ڈالر کے پروگرام میں پاکستان کے تمام صوبوں میں اپنی خدمات سرانجام دی ہیں۔
اپنے کئیرئیر کے ابتدامیں وہ صوبہ خیبر پختون میں چیف اکنامسٹ کے طور پر تعینات رہے ،جس میں انہوں نے عوامی خدمات کے مختلف شعبہ جات میں کام کیا ،اس کے علاوہ انہوں نے ملازمین کی تربیت اور ان کی بنیادی سکلز بہتر کرنے پر بہت کام کیا۔ڈاکٹر مشرف رسول سیا ل پاکستان کے علاوہ افغانستان ،کمبوڈیا،مصر،شام ،مقدونیہ،نیپال،نائیجریا،روانڈا اور امریکہ میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں ،جس میں انہوں نے سول سروسز کے مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات سرانجام دی ہیں۔
اس کے علاوہ وہ ورلڈ بینک ،ایشائی ترقیاتی بینک اور یونائٹیڈ نیشنل ترقیاتی پروگرام کے علاوہ یو ایس ایڈ کے ساتھ دوسرے عالمی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ان کی 2015 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس میںشائع ہونے والی کتاب Taxation for Pakistan’s Revivaمیں سول سروسز کے بہت سے مقالے اور جامع تحریریں درج ہیں۔