لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ ستمبر 1970ءکی بات ہے کہ لندن کی جانب پرواز کرتے ایک ہوائی جہاز اور نیویارک سٹی کی جانب محو پرواز تین ہوائی جہازوں کو بیک وقت ہائی جیک کرلیا گیا۔ ہوابازی کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ہائی جیکنگ کے اس واقعے نے پوری دنیا میں تہلکہ برپا کر دیا۔

ہائی جیک کئے گئے تین ہوائی جہازوں کو اردن کے صحرا میں واقع ڈاسن ائیرفیلڈ پر اتارا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے یرغمال بنائے گئے مسافروں کی رہائی کے لئے ایک خطرناک آپریشن شروع کیا جس میں ایک ہائی جیکر کو ہلاک کیا گیا جبکہ ایک زخمی بھی ہوا۔ اسی دن نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم سے پرواز 219 کی ہائی جیکنگ کی کوشش کی گئی مگر اسے ناکام بنادیا گیا۔ ہائی جیکر پیٹرک آرگیلو کو گولی ماردی گئی جبکہ اس کی ساتھی لیلیٰ خالد کو پکڑلیا گیا۔ اس کے بعد 9 ستمبر کے روز BOACکی پرواز 775 کو بحرین سے اڑان بھرنے کے بعد ہائی جیک کرلیا گیا۔ اسے بھی ڈاسن ائیرفیلڈ پر لیجایا گیا۔

ہائی جیکنگ کے ان تمام واقعات میں ’پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین‘ کے کارکن ملوث تھے، جن کا مقصد یورپ اور اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو رہا کروانا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مجموعی طور پر 310 مسافروں کو رہا کروالیا گیا، البتہ 56 یہودی مسافروں کو ہائی جیکروں نے اپنے قبضے میں رکھا۔ بعد ازاں ان میں سے بھی اکثریت کو رہا کروا لیا گیا۔