وسم گرمی کا ہو یا سردی کا، ہوائی جہاز آپ کو ہمیشہ ہی بہت ٹھنڈا ملتا ہے۔ کبھی آپ نےسوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ بھلا ائرلائنیں اضافی خرچہ کر کے جہاز کو اتنا ٹھندا کیوں رکھتی ہیں؟
ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ادارے اے ایس ٹی ایم انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ ہوائی جہاز کے اندر مسافروں کے ’ہائی پوکسیا‘ کا شکار ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ’ہائی پوکسیا‘ اس کیفیت کا نام ہے جب مناسب مقدار میں آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے انسان بے ہوش ہوجاتا ہے۔ ہوائی جہاز میں نقل و حرکت نہ ہونے، غنودگی کے غلبے اور جسمانی نظام کی سستی کی وجہ سے جسم کے خلیات کو ملنے والی آکسیجن کی مقدار بہت کم ہوجاتی ہے ۔ ایسی صورت میں اگر درجہ حرارت بھی زیادہ ہوتو ’ہائی پوکسیا‘ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ بس یہی وجہ ہے کہ ہوائی جہازوں کے اندر درجہ حرارت بہت کم رکھا جاتا ہے تاکہ مسافر ’ہائی پوکسیا‘ کا شکار نہ ہوں۔

’ہائی پوکسیا‘ فضائی مسافروں کے لئے کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس کا اندازہ ایک دہائی قبل پیش آنے والےایک افسوسناک حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔یہ حادثہ قبرص سے ایتھنز جانے والی پرواز میں کیبن کا پریشر کم ہونے کے بعد مسافروں میں ’ہائی پوکسیا‘ پیدا ہونے کی وجہ سے پیش آیا تھا اور اس میں 121 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔